السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد في حقوق المال باب: مال کے حقوق کے متعلق جو منقول ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ: " وَلَا صَاحِبُ إِبِلٍ لَا يُعْطِي حَقَّهَا، وَمِنْ حَقِّهَا حَلْبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا إِلَّا وَهِيَ تُجْمَعُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا، ثُمَّ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ آخِرُهَا رَجَعَ عَلَيْهِ أَوَّلُهَا، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَرَوَاهُ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا "، وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّفْظَ فِي الْحَلْبِ، وَرَوَاهُ أَبُو عُمَرَ الْغُدَانِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمَعْنَاهُ فِيمَنْ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، فَقِيلَ لَهُ: وَمَا حَقُّ الْإِبِلِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: تُعْطِي الْكَرِيمَةَ، وَتَمْنَحُ الْغَزِيرَةَ، وَتُفْقِرُ الظَّهْرَ، وَتُطْرِقُ الْفَحْلَ، وَتَسْقِي اللَّبَنَ ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھر حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ ”نہیں کوئی اونٹ والا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا، اس کے دوہنے کا حق وارد ہونے کے وقت، مگر یہ قیامت کے دن اکٹھے کیے جائیں گے، ان میں سے ایک بچہ بھی گم نہیں ہوگا۔ پھر اسے صاف میدان میں ڈال دیا جائے گا، وہ اپنے ناخنوں سے اسے روندیں گے اور اپنے منہ سے اسے کاٹیں گے، جب اس پر آخری گزرے گا تو پہلا پلٹ آئے گا۔ یہ ایسے دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ اپنا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دیکھ لے۔“ آگے مکمل حدیث ذکر کی۔
سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے یہ حدیث روایت کی تو اس میں کہا: کوئی بھی اونٹوں والا جو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، مگر (حلب) یعنی دوہنے کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ نیز ابو عمر غدانی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہیں معانی میں حدیث بیان کی ”جو اس کا حق ادا نہیں کرتا“ تو کہا گیا: اے ابوہریرہ! یہ اونٹ کا حق کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: عمدہ اونٹ دینا، زیادہ دودھ والی اونٹنی عاریتاً دینا، اس کی پیٹھ سواری کے لیے عاریتاً دینا، سانڈ کو (جفتی کے لیے) دینا اور دودھ پلانا۔