السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: " أبر البر أن يصل الرجل ود أبيه " باب: اس فرمان کا بیان کہ ”سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، ح وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُونُسَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ، وَحَمَلَهُ عَلَى حِمَارٍ كَانَ يَرْكَبُهُ، وَأَعْطَاهُ عِمَامَةً كَانَتْ عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ ابْنُ دِينَارٍ: فَقُلْنَا لَهُ: أَصْلَحَكَ اللهُ، إِنَّهُمُ الْأَعَرَابُ، وَهُمْ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيرِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ، إِنَّ أَبَا هَذَا كَانَ وَادًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دیہاتیوں میں سے ایک شخص مکہ کے راستے میں ملا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اسے سلام کہا اور جس گدھے پر سوار تھے اسے بھی سوار کر لیا اور اپنا عمامہ جو سر پر تھا اسے دے دیا۔ ابن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے انہیں کہا: «أَصْلَحَكَ اللَّهُ» ”اللہ آپ کی اصلاح کرے“، وہ دیہاتی لوگ بہت کم پر خوش ہو جاتے ہیں تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کا والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بہت پیار کرتا تھا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے تھے: ”نیکیوں میں سے بڑی نیکی والد کے ساتھ محبت کرنے والوں سے صلہ رحمی اور محبت کرنا ہے۔“