السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: وقت إخراج زكاة الفطر. باب: زکوٰۃ الفطر نکالنے کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7739
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ وَحُرٍّ وَمَمْلُوكٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ قَالَ: وَكَانَ يُؤْتَى إِلَيْهِمْ بِالزَّبِيبِ وَالْأَقِطِ فَيَقْبَلُونَهُ مِنْهُمْ وَكُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نُخْرِجَهُ قَبْلَ أَنْ نَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقَسِّمُوهُ بَيْنَهُمْ، وَيَقُولُ: " اغْنُوهُمْ عَنْ طَوَافِ هَذَا الْيَوْمِ " أَبُو مَعْشَرٍ هَذَا نَجِيحٌ السِّنْدِيُّ الْمَدِينِيُّ، غَيْرُهُ أَوْثَقُ مِنْهُ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ”ہم صدقہ فطر ہر چھوٹے بڑے اور آزاد و غلام کی طرف سے ایک صاع کھجور یا جو کا نکالیں“۔ وہ فرماتے ہیں کہ وہ منقی اور پنیر بھی دیا کرتے تو وہ اسے قبول کرلیتے تھے اور ہمیں حکم دیا جاتا کہ ”ہم نماز کی طرف نکلنے سے پہلے نکالیں“۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے ان میں تقسیم کردیں اور آپ ﷺ فرماتے: ”انہیں اس دن (مانگنے کے لیے) گھومنے سے بے نیاز کر دو۔“
یہ ابو معشر، نجیح سندی مدنی ہیں، دوسرے راوی ان سے زیادہ ثقہ ہیں۔