السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: وجوب زكاة الفطر على أهل البادية باب: دیہات والوں پر زکوٰۃ الفطر کے واجب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 7726
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ وَلَقَبُهُ حَمْدَانُ، ثنا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، وَكَانَ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ صَارِخًا بِبَطْنِ مَكَّةَ يُنَادِي أَنَّ صَدَقَةَ الْفِطْرِ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى حُرٍّ وَمَمْلُوكٍ حَاضِرٍ أَوْ بَادٍ، صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ. وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ حَمْدَانَ فَزَادَ فِيهِ مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ، وَقَالَهُ الْكُدَيْمِيُّ أَيْضًا، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَبِيبٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ يَنْفَرِدُ بِهِ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ هَكَذَا، وَإِنَّمَا رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ مِنْ قَوْلِهِ فِي الْمُدَّيْنِ، وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُمَرِو بْنِ شُعَيْبٍ مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَائِرِ ألْفَاظِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ بطنِ مکہ میں یہ اعلان کرے کہ ”صدقہ فطر ہر مسلمان پر واجب ہے، وہ چھوٹا ہو یا بڑا، مذکر ہو یا مؤنث، آزاد ہو یا غلام، شہری ہو یا دیہاتی؛ ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور سے۔“
اس حدیث کو ابن جریج سے اس طرح بیان کرنے میں یحییٰ بن عباد منفرد ہیں، دوسرے راویوں نے اسے ابن جریج سے، انہوں نے عطاء سے دو مد کے بارے میں ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے، اور ابن جریج سے، انہوں نے عمرو بن شعیب سے باقی الفاظ میں نبی کریم ﷺ تک مرفوعاً روایت کیا ہے۔