السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الجنس الذي يجوز إخراجه في زكاة الفطر. باب: اس جنس کا بیان جس کا زکوٰۃ الفطر میں نکالنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 7700
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، أنبأ ⦗٢٧٨⦘ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " كَانَ النَّاسُ يُخْرِجُونَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ سلْتٍ، أَوْ زَبِيبٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے دور میں صدقہ فطر دیا کرتے تھے: ایک صاع جو کا، یا ایک صاع کھجور کا، یا ایک صاع منقی کا، یا ایک صاع بغیر چھلکے کا۔