حدیث نمبر: 7697
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " فَرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي ⦗٢٧٧⦘ التَّمْرَ فَأَعْوَزَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ عَامًا التَّمْرُ، فَأَعْطَى شَعِيرًا وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي إِذَا قَعَدَ الَّذِينَ يَقْبَلُونَهَا وَكَانُوا يَقْعُدُونَ قَبْلَ الْفِطْرِ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ، وَكَانَ يُعْطِي عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ مِنَ أَهْلِهِ حَتَّى كَانَ يُعْطِي عَنِ ابْنِي يَعْنِي ابْنَيْ نَافِعٍ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ عَنْ حَمَّادٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ عَنْ أَيُّوبَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”رمضان کی زکاۃ فرض کی، ایک صاع کھجور کا یا ایک صاع جو کا، ہر مذکر و مؤنث اور آزاد و غلام پر“ تو لوگوں نے گندم کا نصف صاع اس کے برابر جانا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کھجور دیا کرتے تھے اور ایک سال اہل مدینہ نے کھجور کو کم پایا تو جو دے دیے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما انھیں دیا کرتے جب لوگ اسے قبول کرنے کے لیے بیٹھتے تھے اور وہ عید الفطر سے ایک دو دن پہلے بیٹھا کرتے تھے اور وہ اپنے اہل میں سے ہر چھوٹے بڑے کی طرف سے دیا کرتے تھے حتیٰ کہ وہ بچوں کی طرف سے بھی دیا کرتے یعنی بنو نافع کی طرف سے دیا کرتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7697
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ لفظ البخاري»