حدیث نمبر: 767
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا فَذَكَرُوا مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ، زَادَ أَبُو مُوسَى فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ مَنْ حَضَرَهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ: " إِذَا مَسَّ الْخَتَانُ الْخَتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ " وَقَالَ مَنْ حَضَرَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ: " لَا، حَتَّى يَدْفُقَ " ثُمَّ اتَّفَقَا فِي الْمَعْنَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَنَا آتِي بِالْخَبَرِ، فَقَامَ إِلَى عَائِشَةَ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَأَنَا أَسْتَحْيِيكِ، فَقَالَتْ: لَا تَسْتَحِ أَنْ تَسْأَلَنِي عَنْ شَيْءٍ كُنْتَ سَائِلًا عَنْهُ أُمَّكَ الَّتِي وَلَدَتْكَ، إِنَّمَا أَنَا أُمُّكَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ قَالَتْ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ، وَمَسَّ الْخَتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ " لَفْظُ حَدِيثِ السُّلَمِيِّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنِ الْأَنْصَارِيِّ. وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا رَفَعَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ الَّتِي أَخْرَجَهَا مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ رِوَايَةٌ صَحِيحَةٌ مُسَنَّدَةٌ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے ہوئے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ذکر کیا کہ کس چیز سے غسل واجب ہوتا ہے۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں کہ مہاجرین میں سے کسی نے کہا: جب شرم گاہ، شرم گاہ کو چھو لے تو غسل واجب ہو جاتا ہے اور انصار میں سے ایک نے کہا: نہیں، جب تک کہ منی نہ ٹپکے۔ مطلب دونوں کا ایک ہی ہے، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں خبر لے کر آؤں گا، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، سلام کیا پھر عرض کیا: میں کسی چیز کے متعلق آپ سے سوال کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور مجھے شرم آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا: تو سوال کرنے میں شرم نہ کر، تو گویا اپنی اس ماں سے سوال کر رہا ہے جس نے تجھے جنم دیا ہے، میں تیری ماں ہوں۔ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کس چیز سے غسل واجب ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: تو انتہائی باخبر کے پاس آیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب آدمی چار گھاٹیوں کے درمیان بیٹھے اور شرم گاہ، شرم گاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 767
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة 227»