السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما يوجد منه مدفونا في قبور أهل الجاهلية باب: زمانۂ جاہلیت کے لوگوں کی قبروں میں سے جو دفن شدہ خزانہ ملے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 7653
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلُ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ الْحَرْبِيُّ ثنا الرِّيَاحِيُّ يَعْنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ بُجَيْرِ بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ أَوْ مَسِيرٍ فَمَرُّوا بِقَبْرٍ، فَقَالَ: " هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ كَانَ مِنْ قَوْمِ ثَمُودَ، فَلَمَّا أَهْلَكَ اللهُ قَوْمَهُ بِمَا أَهْلَكَهُمْ بِهِ مَنَعَهُ لِمَكَانِهِ مِنَ الْحَرَمِ، فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ هَذَا الْمَكَانَ أَوِ الْمَوْضِعَ مَاتَ وَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ ". فَابْتَدَرْنَاهُ فَأَخْرَجْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، وہ ایک قبر کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ابو رغال کی قبر ہے، جو قوم ثمود میں سے تھا۔ جب اللہ نے اس کی قوم کو ہلاک کیا جس وجہ سے بھی ہلاک کیا تو وہ حرم میں ہونے کی وجہ سے بچ رہا، سو وہ وہاں سے نکلا جب اس جگہ پہنچا تو وہ فوت ہو گیا اور اسے دفن کر دیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی چھڑی کو بھی۔“ پھر ہم نے جلدی جلدی کی اور اسے وہاں سے نکال لیا۔