السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من تورع عن التحلي بالفضة ورأى حلية السيف من الكنوز. باب: ان لوگوں کا بیان جنھوں نے چاندی کا زیور استعمال کرنے سے پرہیز کیا اور تلوار کے زیور کو خزانوں (کنز) میں شمار کیا۔
حدیث نمبر: 7580
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنِي بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ أَبَا أُمَامَةَ أَرَأَيْتَ حِلْيَةَ السُّيُوفِ أَمِنَ الْكُنُوزِ هِيَ؟ قَالَ أَبُو أُمَامَةُ: " نَعَمْ "، ثُمَّ قَالَ: " أَمَا إِنِّي مَا حَدَّثْتُكُمْ إِلَّا بِمَا سَمِعْتُ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے کہ آپ کا کیا خیال ہے، تلوار کو مرصع کرنا کنز ہے یا نہیں؟ تو سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے کہا: میں تو صرف وہ بیان کروں گا جو میں نے سنا ہے۔