السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الانتضاح بعد الوضوء لرد الوسواس باب: وسوسہ دور کرنے کے لیے وضو کے بعد پانی چھڑکنے کا بیان
حدیث نمبر: 758
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْجُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، نا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، نا الْفُرَاتُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَجِدُ بَلَلًا إِذَا قُمْتُ أُصَلِّي، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ⦗٢٥١⦘ انْضَحْ بِكَأْسٍ مِنْ مَاءٍ، وَإِذَا وَجَدْتَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَقُلْ هُوَ مِنْهُ "، فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ أَتَاهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَزَعَمَ أَنَّهُ ذَهَبَ مَا كَانَ يَجِدُ مِنْ ذَلِكَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور عرض کیا: میں تری کو پاتا ہوں جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پانی کے پیالے سے چھینٹے مار اور جب تو ایسی شکایت پائے تو سمجھ لے وہ اسی سے ہے (یعنی جو چھینٹے مارے ہیں)۔ وہ شخص چلا گیا جب تک اللہ نے چاہا، پھر کچھ عرصے بعد آیا۔ اس کا گمان یہ تھا کہ وہ چیز چلی گئی ہے جو وہ محسوس کرتا تھا۔