السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: قدر الواجب في الورق إذا بلغ نصابا باب: جب چاندی نصاب کو پہنچ جائے تو اس میں واجب زکوٰۃ کی مقدار کا بیان۔
حدیث نمبر: 7520
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ هَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ عَلَى كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ ".حافظ ثناء اللہ
عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف کر دی ہے، سو تم چاندی کی زکاۃ چالیس درہم میں سے ایک درہم ادا کرو اور ایک سو نوے درہموں میں زکاۃ نہیں، جب تک وہ مکمل دو سو نہ ہو جائیں۔ جب دو سو ہو جائیں تو ان میں پانچ درہم زکاۃ ہے۔“