السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
جماع أبواب صدقة الزرع -- باب: لا شيء في الثمار والحبوب حتى يبلغ كل صنف منها خمسة أوسق فيكون فيما بلغ منه خمسة أوسق صدقة باب: کھیتی کی زکوٰۃ کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: پھلوں اور غلوں میں اس وقت تک کوئی زکوٰۃ نہیں جب تک کہ ان میں سے ہر قسم پانچ وسق کو نہ پہنچ جائے، پس جو پیداوار پانچ وسق تک پہنچ جائے تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔
حدیث نمبر: 7470
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلَا تَمْرٍ صَدَقَةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.حافظ ثناء اللہ
سفیان پوری سند بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”غلے اور کھجور میں زکاۃ نہیں یہاں تک کہ وہ پانچ وسق ہو جائیں اور نہ ہی پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے اور نہ ہی پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکاۃ ہے۔“