السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: المضمضة من شرب اللبن وغيره مما له دسومة باب: دودھ اور دیگر چکنائی والی اشیاء پینے پر کلی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 744
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالصَّهْبَاءِ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِدَ فَأَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا مَعَهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَغَيْرِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ خیبر کے سال نکلے، جب آپ ﷺ مقامِ صہباء، جو خیبر کے نیچے جگہ تھی، پر پہنچے تو عصر کی نماز ادا کی، پھر آپ ﷺ نے کھانا منگوایا تو صرف ستو لایا گیا۔ آپ ﷺ نے اس کی ثرید بنانے کا حکم دیا، پھر آپ ﷺ نے کھایا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ کھایا، پھر آپ ﷺ مغرب (کی نماز) کے لیے کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے کلی کی اور ہم نے بھی کلی کی، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں کیا۔