السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما يسقط الصدقة عن الماشية باب: ان اسباب کا بیان جو مویشیوں سے زکوٰۃ کو ساقط کر دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7397
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " لَا يُؤْخَذُ مِنَ الْبَقَرِ الَّتِي يُحْرَثُ عَلَيْهَا مِنَ الزَّكَاةِ شَيْءٌ ". تَابَعَهُ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ هَكَذَا مَوْقُوفًا، وَهُوَ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ مُجَاهِدٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: لَيْسَ فِي الْبَقَرِ الْعَوَامِلِ صَدَقَةٌ إِذَا كَانَتْ فِي مِصْرٍ.حافظ ثناء اللہ
ابو زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جابر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جن گائیوں سے کھیتی باڑی کی جاتی ہے، ان میں سے زکاۃ وصول نہ کی جائے۔ اس کی سند صحیح ہے، اور یہی مجاہد، سعید بن جبیر، عمر بن عبدالعزیز اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ کا قول ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ کام کرنے والے بیلوں میں زکاۃ نہیں جب وہ شہر میں ہوں۔