❮
❯
حدیث نمبر: 7390
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، قَالَ قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيِّ وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ لَا تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ، عَزْمَةٌ مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ ".
حافظ ثناء اللہ

بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: ”ہر چرنے والے چالیس اونٹوں میں ایک «بِنْتُ لَبُونٍ» ہے اور اونٹوں کو اس حساب سے جدا جدا نہ کیا جائے، جو اجر کے حصول کے لیے دے گا وہ اجر حاصل کرے گا اور جو کوئی اسے روکے گا تو ہم اسے اور اس کے آدھے اونٹ اس سے وصول کریں گے، یہ ہمارے رب کے لازمی احکام میں سے ایک حکم ہے، آلِ محمد ﷺ کے لیے اس میں سے کچھ بھی جائز نہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7390
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ معنيٰ تخريجه»