حدیث نمبر: 7368
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقِيلَ: مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ ⦗١٨٨⦘ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا قَدِ احْتَبَسَ أَعْتُدَهُ وَأَدْرُعَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا " ثُمَّ قَالَ: " يَا عُمَرُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَفْصٍ بِهَذَا اللَّفْظِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَأَعْتَادُهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شَبَابَةُ عَنْ وَرْقَاءَ وَرَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَهِيَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ وَمِثْلُهَا مَعَهَا وَمِنْ حَدِيثِ شُعَيْبٍ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ ثُمَّ قَالَ: تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ: هِيَ عَلَيْهِ وَمِثْلُهَا مَعَهَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَكَمَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ رَوَاهُ أَبُو أُوَيْسٍ الْمَدَنِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ وَكَذَلِكَ هُوَ عِنْدَنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ وَحَمَلُوهُ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَخَّرَ عَنْهُ الصَّدَقَةَ عَامَيْنِ مِنْ حَاجَةٍ بِالْعَبَّاسِ إِلَيْهَا، وَالَّذِي رَوَاهُ وَرْقَاءُ عَلَى أَنَّهُ كَانَ تَسَلَّفَ مِنْهُ صَدَقَةَ عَامَيْنِ، وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى جَوَازِ تَعْجِيلِ الصَّدَقَةِ، فَأَمَّا الَّذِي رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ فَإِنَّهُ يَبْعُدُ مِنَ أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا؛ لِأَنَّ الْعَبَّاسَ كَانَ رَجُلًا مِنْ صُلْبِيَّةِ بَنِي هَاشِمٍ تَحْرُمُ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ، فَكَيْفَ يَجْعَلُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَلَيْهِ مِنْ صَدَقَةِ عَامَيْنِ صَدَقَةً عَلَيْهِ؟ وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَهِيَ لَهُ وَمِثْلُهَا مَعَهَا، وَقَدْ يُقَالُ لَهُ بِمَعْنَى عَلَيْهِ فَرِوَايَتُهُ مَحْمُولَةٌ عَلَى سَائِرِ الرِّوَايَاتِ وَقَدْ يَكُونُ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ: فَهِيَ عَلَيْهِ أَيْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكُونَ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ وَرْقَاءَ، وَرِوَايَةُ وَرْقَاءَ أَوْلَى بِالصِّحَّةِ لِمُوَافَقَتِهَا مَا تَقَدَّمَ مِنَ الرِّوَايَاتِ الصَّرِيحَةِ بِالِاسْتِسْلَافِ وَالتَّعْجِيلِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو کہا گیا کہ ابن جمیل، خالد بن ولید اور عباس رضی اللہ عنہما نے زکوٰۃ نہیں دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن جمیل تو صرف اس بات کا انتقام لے رہا ہے کہ وہ محتاج تھا، اللہ نے اسے غنی کر دیا اور خالد پر تم ظلم و زیادتی کرتے ہو۔ اس نے تو اپنی زرع اور خود کو اللہ کی راہ میں وقف کر دیا ہے، لیکن عباس کی زکوٰۃ میرے ذمے ہے اور اتنی مزید۔“ پھر فرمایا: ”اے عمر! کیا تو جانتا نہیں کہ آدمی کا چچا والد کی مانند ہوتا ہے۔“
ابوزناد نے حدیث میں بیان کیا کہ یہ اس پر زکوٰۃ ہے اور اس کے برابر اور بھی۔ نیز ابوزناد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے ان پر محمول کیا ہے کہ آپ نے ان سے دو سال کا صدقہ مؤخر کیا، اس وجہ سے عباس رضی اللہ عنہ کو عذر تھا جو ورقاء نے بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ ان سے دو سال کا صدقہ پہلے وصول فرما لیتے اور اس میں پہلے زکوٰۃ وصول کرنے کے جواز کی دلیل ہے، مگر جو شعیب نے بیان کیا وہ بعید ہے؛ کیونکہ عباس رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی برادری میں سے تھے اور بنو ہاشم پر زکوٰۃ حلال نہیں۔ سو پھر رسول اللہ ﷺ نے ان پر دو سال کی زکوٰۃ کیسے صدقہ کر دی؟ اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان تمام روایات سے مقصود یہ ہے کہ یہ بھی ورقاء کی روایت کے موافق ہے اور یہ پہلی روایات کی موافقت کی وجہ سے زیادہ صحیح ہے جس میں زکوٰۃ جلد وصول کرنے کی دلیل ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7368
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري»