أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقِيلَ: مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ ⦗١٨٨⦘ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا قَدِ احْتَبَسَ أَعْتُدَهُ وَأَدْرُعَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا " ثُمَّ قَالَ: " يَا عُمَرُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَفْصٍ بِهَذَا اللَّفْظِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَأَعْتَادُهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شَبَابَةُ عَنْ وَرْقَاءَ وَرَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَهِيَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ وَمِثْلُهَا مَعَهَا وَمِنْ حَدِيثِ شُعَيْبٍ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ ثُمَّ قَالَ: تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ: هِيَ عَلَيْهِ وَمِثْلُهَا مَعَهَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَكَمَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ رَوَاهُ أَبُو أُوَيْسٍ الْمَدَنِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ وَكَذَلِكَ هُوَ عِنْدَنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ وَحَمَلُوهُ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَخَّرَ عَنْهُ الصَّدَقَةَ عَامَيْنِ مِنْ حَاجَةٍ بِالْعَبَّاسِ إِلَيْهَا، وَالَّذِي رَوَاهُ وَرْقَاءُ عَلَى أَنَّهُ كَانَ تَسَلَّفَ مِنْهُ صَدَقَةَ عَامَيْنِ، وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى جَوَازِ تَعْجِيلِ الصَّدَقَةِ، فَأَمَّا الَّذِي رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ فَإِنَّهُ يَبْعُدُ مِنَ أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا؛ لِأَنَّ الْعَبَّاسَ كَانَ رَجُلًا مِنْ صُلْبِيَّةِ بَنِي هَاشِمٍ تَحْرُمُ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ، فَكَيْفَ يَجْعَلُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَلَيْهِ مِنْ صَدَقَةِ عَامَيْنِ صَدَقَةً عَلَيْهِ؟ وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَهِيَ لَهُ وَمِثْلُهَا مَعَهَا، وَقَدْ يُقَالُ لَهُ بِمَعْنَى عَلَيْهِ فَرِوَايَتُهُ مَحْمُولَةٌ عَلَى سَائِرِ الرِّوَايَاتِ وَقَدْ يَكُونُ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ: فَهِيَ عَلَيْهِ أَيْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكُونَ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ وَرْقَاءَ، وَرِوَايَةُ وَرْقَاءَ أَوْلَى بِالصِّحَّةِ لِمُوَافَقَتِهَا مَا تَقَدَّمَ مِنَ الرِّوَايَاتِ الصَّرِيحَةِ بِالِاسْتِسْلَافِ وَالتَّعْجِيلِ وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو کہا گیا کہ ابن جمیل، خالد بن ولید اور عباس رضی اللہ عنہما نے زکوٰۃ نہیں دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن جمیل تو صرف اس بات کا انتقام لے رہا ہے کہ وہ محتاج تھا، اللہ نے اسے غنی کر دیا اور خالد پر تم ظلم و زیادتی کرتے ہو۔ اس نے تو اپنی زرہیں اور (جنگی) سامان اللہ کی راہ میں وقف کر رکھا ہے، لیکن عباس کی زکوٰۃ میرے ذمے ہے اور اتنی مزید۔“ پھر فرمایا: ”اے عمر! کیا تو جانتا نہیں کہ آدمی کا چچا والد کی مانند ہوتا ہے۔“
شعیب بن ابی حمزہ نے ابوالزناد سے روایت کی تو حدیث میں کہا: ”تو وہ اس پر صدقہ ہے اور اس کے برابر اور بھی۔“ اور ابن اسحاق اور ابو اویس مدنی نے ابوالزناد سے، اور ابن ابی الزناد نے اپنے والد سے روایت کیا: ”وہ اس کے ذمے ہے اور اس کے برابر اور بھی۔“ علماء نے اسے اس پر محمول کیا ہے کہ آپ ﷺ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی ضرورت کی وجہ سے ان سے دو سال کی زکوٰۃ مؤخر کر دی تھی، اور ورقاء کی روایت اس پر محمول ہے کہ آپ ﷺ نے ان سے دو سال کی زکوٰۃ پیشگی لے لی تھی، اور اس میں زکوٰۃ پہلے ادا کرنے کے جواز کی دلیل ہے۔ رہی وہ روایت جو شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کی تو اس کا محفوظ ہونا بعید ہے؛ کیونکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ خالص بنو ہاشم میں سے تھے جن پر صدقہ حرام ہے، تو رسول اللہ ﷺ ان کے ذمے دو سال کی زکوٰۃ کو انہی پر صدقہ کیسے قرار دیتے؟ اور موسیٰ بن عقبہ نے ابوالزناد سے روایت کیا تو حدیث میں کہا: ”تو وہ اس کے لیے ہے اور اس کے برابر اور بھی۔“ اور ”لہ“ کبھی ”علیہ“ کے معنی میں بولا جاتا ہے، لہٰذا ان کی روایت باقی روایات پر محمول ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ”وہ اس پر ہے“ سے مراد نبی کریم ﷺ پر ہو، تاکہ یہ ورقاء کی روایت کے موافق ہو جائے، اور ورقاء کی روایت صحیح ہونے کی زیادہ حق دار ہے، کیونکہ یہ ان سابقہ روایات کے موافق ہے جن میں پیشگی لینے اور جلد وصول کرنے کی صراحت ہے۔ واللہ اعلم۔