حدیث نمبر: 7361
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي قَوْلِهِ: لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ قَالَ: " أَنْ تُصْدَقَ الْمَاشِيَةُ فِي مَوَاضِعِهَا وَلَا تُجْلَبُ إِلَى الْمُصَدِّقِ، وَالْجَنَبُ عَنْ هَذِهِ الطَّرِيقَةِ أَيْضًا لَا تَجَنُّبُ أَصْحَابِهَا يَقُولُ: وَلَا يَكُونُ الرَّجُلُ بِأَقْصَى مَوَاضِعِ أَصْحَابِ الصَّدَقَةِ فَتُجْنَبُ إِلَيْهِ وَلَكِنْ تُؤْخَذُ فِي مَوْضِعِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

یعقوب بن ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا جو محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ» ”نہ جلب ہو اور نہ جنب ہو“ اس سے مقصود یہ ہے کہ چرنے والے جانوروں کی زکوۃ ان کی جگہ پر لی جائے اور انہیں عامل کی طرف نہ لے جایا جائے، اور «جَنَب» سے مراد اسی طریقے سے یہ ہے کہ اس کے مالک اسے ایک طرف پر نہ لے جائیں اور یہ کہ اسے صدقہ لینے والوں کی جگہ سے ایک طرف اور ان سے دور نہ کیے جائیں، بلکہ ان کی زکوۃ اسی جگہ لی جائے جہاں وہ رہتے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7361
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»