السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: صدقة الخلطاء باب: شرکاء (اکٹھے مال رکھنے والوں) کی زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 7334
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُ، قَالَا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " مَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ " قَالَ سُفْيَانُ: قُلْتُ لِعُبَيْدِ اللهِ مَا يَعْنِي بِالْخَلِيطَيْنِ؟ قَالَ: إِذَا كَانَ الْمُرَاحُ وَاحِدًا وَالرَّاعِي وَاحِدًا وَالدَّلْوُ وَاحِدًا.حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ”جو شراکت دار ہیں، وہ آپس میں زکوۃ کا حصہ برابر برابر تقسیم کریں گے۔“ سفیان کہتے ہیں: میں نے عبید اللہ سے کہا: «الْخَلِيطَيْنِ» ”دو شریکوں“ سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: جن کا باڑہ ایک ہو، چرواہا ایک ہو اور ڈول بھی ایک ہو۔