حدیث نمبر: 7314
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى صَدَقَاتِ قَوْمِي فَاعْتَدَدْتُ عَلَيْهِمْ بِالْبُهْمِ فَاشْتَكَوْا ذَلِكَ وَقَالُوا: إِنْ كُنْتَ تَعُدُّهَا مِنَ الْغَنَمِ فَخُذْ مِنْهَا ⦗١٧٣⦘ صَدَقَتَكَ، قَالَ: فَاعْتَدَدْنَا عَلَيْهِمْ بِهَا ثُمَّ لَقِيتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: إِنَّ قَوْمِي اسْتَنْكَرُوا عَلَيَّ أَنِ اعْتَدَدْتُ عَلَيْهِمْ بِالْبُهْمِ وَقَالُوا: إِنْ كُنْتَ تَرَاهَا مِنَ الْغَنَمِ فَخُذْ مِنْهَا صَدَقَتَكَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اعْتَدَّ عَلَى قَوْمِكَ يَا سُفْيَانُ بِالْبُهْمِ وَإِنْ جَاءَ بِهَا الرَّاعِي يَحْمِلُهَا فِي يَدِهِ، وَقُلْ لِقَوْمِكَ: إِنَّا نَدَعُ لَهُمُ الْمَاخِضَ وَالرُّبَّى وَشَاةَ اللَّحْمِ وَفَحْلَ الْغَنَمِ وَنَأْخُذُ الْجَذَعَ وَالثَّنِيَّ وَذَلِكَ وَسَطٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ فِي الْمَالِ ".
حافظ ثناء اللہ

بشر بن عاصم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم میں زکاۃ پر عامل بنایا تو میں نے ان کے بچے بھی شمار کیے تو انہوں نے میری شکایت کی اور کہا: اگر تو انہیں بکریوں میں شمار کرتا ہے تو پھر ان سے زکاۃ بھی وصول کر۔ وہ کہتے ہیں: ہم نے وہ شمار کیں، پھر میں عمر رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا: میری قوم نے مجھ پر عیب لگایا ہے کہ میں ان کی بکریوں کے چھوٹے بچے بھی شمار کرتا ہوں اور انہوں نے کہا ہے کہ اگر تو انہیں بکریوں میں شمار کرتا ہے تو پھر زکاۃ بھی ان میں وصول کر، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے سفیان! تو اپنی قوم کے ان بچوں کو بھی شمار کر جو چرواہا اپنے ہاتھ میں اٹھاتا ہے اور اپنی قوم سے کہہ کہ ہم تمہارے لیے عمدہ دودھ والی اور حاملہ اور گوشت والی اور بکریوں کا سانڈ چھوڑتے ہیں اور ہم «الْجَذَعُ» ”جزع“ اور «الثَّنِيُّ» ”ثنیہ“ وصول کرتے ہیں، یہ ہمارے اور تمہارے لیے مال میں درمیانہ راستہ ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7314
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ معنيٰ تخريجه»