السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
جماع أبواب صدقة البقر السائمة باب: چرنے والی گائیوں کی زکوٰۃ کے ابواب کا مجموعہ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُنَادِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنُ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: " هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ". قَالَ فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ هُمْ؟ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ: " هُمُ الْأَكْثَرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، كُلَّمَا نَفَذَتْ أُخْرَهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ ". لَفْظُ حَدِيثِ وَكِيعٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کعبے کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”رب کعبہ کی قسم! وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہیں۔“ میں آپ ﷺ کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور مجھ سے ٹھہرا نہ گیا اور میں نے عرض کیا: آپ ﷺ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، وہ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ زیادہ مال والے، مگر جس نے اپنے مال کو ایسے ایسے خرچ کیا۔“ اور یہ بات آپ ﷺ نے چار مرتبہ کہی، پھر فرمایا: ”وہ بہت کم ہیں، کوئی اونٹوں والا، گائے والا یا بکریوں والا ایسا نہیں جو ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا مگر وہ قیامت کے دن ان (جانوروں) کو لے کر آئے گا، وہ بڑے اور موٹے ہوں گے، وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گے اور اپنے پاؤں سے روندیں گے، جب آخری (جانور) گزر جائے گا تو پہلا پلٹ آئے گا، یہاں تک کہ لوگوں میں فیصلہ کر دیا جائے۔“