السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: المشي بين القبور في النعل باب: جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ النَّحْوِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ شُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ نَهِيكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي بَشِيرٌ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ اسْمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ زَحْمَ بْنَ مَعْبَدٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا اسْمُكَ "؟ قَالَ زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ: " أَنْتَ بَشِيرٌ " فَكَانَ اسْمَهُ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَى اللهِ تُمَاشِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَقُلْتُ مَا أَنْقِمُ عَلَى اللهِ شَيْئًا كُلُّ خَيْرٍ فَعَلَ بِيَ اللهُ، فَأَتَى عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: " لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ بِخَيْرٍ كَثِيرٍ ثَلَاثَ مِرَارٍ " ثُمَّ أَتَى عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ: لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا ثَلَاثَ مِرَارٍ " فَبَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي إِذْ حَانَتْ مِنْهُ نَظْرَةٌ فَإِذَا رَجُلٌ يَمْشِي بَيْنَ الْقُبُورِ عَلَيْهِ نَعْلَانِ فَقَالَ: " يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ وَيْحَكَ أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ " فَنَظَرَ فَلَمَّا عَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَعَ نَعْلَيْهِ. فَرَمَى بِهِمَا هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ وَلَا يُعْرَفُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ.بشیر بن نہیک بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے صحابی بشیر رضی اللہ عنہ نے (جس کا جاہلیت کا نام زحم بن معبد تھا) حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”تیرا نام کیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: زحم بن معبد۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تو بشیر ہے۔“ تو ان کا نام یہی ٹھہرا۔ وہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن خصاصیہ! تو نے اس حال میں صبح کی ہے کہ تو اللہ سے شکوہ کر رہا ہے حالانکہ تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا ہے۔“ میں نے عرض کیا: میں اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہیں کر رہا، میرے ساتھ میرے اللہ نے سب بھلا ہی کیا ہے۔ پھر آپ ﷺ مشرکین کے قبرستان آئے اور فرمایا: ”یہ لوگ ایسے ہیں جن سے بہت سی خیر سبقت لے جا چکی ہے۔“ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ دہرائی، پھر آپ ﷺ مسلمانوں کی قبروں کے پاس آئے اور فرمایا: ”انہوں نے بہت زیادہ بھلائی حاصل کر لی ہے۔“ تین بار آپ ﷺ نے یہی فرمایا اور آپ ﷺ ایسے ہی چلتے رہے کہ ایک ایسے شخص پر نظر پڑی جو قبرستان کے درمیان چل رہا تھا اور اس نے جوتے پہنے ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے جوتوں والے! اپنے جوتے اتار دے۔“ جب اس نے دیکھا کہ آپ تو اللہ کے رسول ﷺ ہیں تو اس نے جوتے اتار کر پھینک دیے۔