السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما ورد في نهي النساء عن اتباع الجنائز باب: عورتوں کو جنازوں کے پیچھے چلنے سے روکنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان
حدیث نمبر: 7203
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَ لَهَا: " مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتِ يَا فَاطِمَةُ؟ " فَقَالَتْ: أَقْبَلْتُ مِنْ وَرَاءِ جِنَازَةِ هَذَا الرَّجُلِ قَالَ: " هَلْ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى؟ " فَقَالَتْ: لَا وَكَيْفَ أَبْلُغُهَا وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ مَا سَمِعْتُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ بَلَغْتِهَا مَعَهُمْ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو پوچھا: ”کہاں سے آئی ہو؟“ تو انہوں نے کہا: اس جنازے کے پیچھے سے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو ان کے ساتھ قبرستان پہنچی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، میں کیسے پہنچ سکتی ہوں جب کہ میں نے آپ ﷺ سے (اس بارے میں) سنا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر تو ان کے ساتھ چلی جاتی تو جنت نہ دیکھ پاتی، جب تک تیرے والد کا دادا نہ دیکھ پائے۔“