السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما ورد في نهي النساء عن اتباع الجنائز باب: عورتوں کو جنازوں کے پیچھے چلنے سے روکنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان
حدیث نمبر: 7201
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى نِسْوَةً جُلُوسًا فَقَالَ: " ⦗١٣٠⦘ مَا يُجْلِسُكُنَّ " فَقُلْنَ: الْجِنَازَةُ، فَقَالَ: " أَتَحْمِلْنَ فِيمَنْ يَحْمِلُ؟ " قُلْنَ: لَا. قَالَ: " أَفَتُدْلِينَ فِيمَنْ يُدْلِي " قُلْنَ: لَا. قَالَ: " أَفَتَغْسِلْنَ فِيمَنْ يَغْسِلُ " قُلْنَ: لَا، قَالَ: " فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ " وَفِي حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ " مَوْزُورَاتٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ ایک جنازے میں نکلے تو آپ ﷺ نے بیٹھی ہوئی عورتوں کو دیکھا تو فرمایا: ”تمہیں کس نے بٹھایا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: جنازے نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ان کے ساتھ اٹھاؤ گی جیسے وہ اسے اٹھائیں گے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ان کے ساتھ اسے دفن کرو گی جیسے وہ دفن کریں گے؟“ تو انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم غسل دینے والوں کے ساتھ غسل دو گی؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر پلٹ جاؤ، تمہارے لیے ممنوع ہے، اس پر اجر نہیں ملے گا۔“