السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: لا يشهد لأحد بجنة ولا بنار إلا لمن شهد له رسول الله صلى الله عليه وسلم بها باب: کسی کے جنتی یا جہنمی ہونے کی گواہی نہیں دی جائے گی سوائے اس شخص کے جس کے لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کی گواہی دی ہو
حدیث نمبر: 7191
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيَّةُ تَقُولُ، فَذَكَرَ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مَا يُفْعَلُ بِهِ، وَزَادَ قَالَ مَعْمَرٌ: وَسَمِعْتُ غَيْرَ الزُّهْرِيِّ يَقُولُ: كَرِهَ الْمُسْلِمُونَ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ حَتَّى تُوُفِّيَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: الْحَقِي بِفَرَطِنَا عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ.حافظ ثناء اللہ
خارجہ بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام العلاء انصاریہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں، پھر اسی حدیث کا مفہوم بیان کیا، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: ”اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔“ اور یہ اضافہ کیا کہ معمر نے کہا: میں نے زہری کے علاوہ کسی اور کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو فرمایا تھا وہ مسلمانوں کو ناگوار گزرا، یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کی بیٹی فوت ہوئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے پیش رو عثمان بن مظعون سے جا ملو۔“