حدیث نمبر: 7190
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِمْ قَدْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طَارَ لَهُمْ فِي سَهْمِ السُّكْنَى حِينَ اقْتَرَعَتِ الْأَنْصَارُ فِي سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ: فَسَكَنَ عِنْدَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَاشْتَكَى فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ وَجَعَلْنَاهُ فِي ثِيَابِهِ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللهَ أَكْرَمَهُ " فَقُلْتُ لَا أَدْرِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا عُثْمَانُ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ، " وَاللهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللهِ مَا يُفْعَلُ بِي " قَالَتْ: فَوَاللهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا أَبَدًا وَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: " ذَاكَ عَمَلُهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ

خارجہ بن زید، ام العلاء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی، وہ خبر دیتی ہیں کہ جب انصار اور مہاجرین کے درمیان (رہائش کے لیے) قرعہ اندازی کی گئی تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی رہائش کا قرعہ ان کے نام نکلا۔ ام العلاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں ٹھہرے اور وہ بیمار ہو گئے، ہم نے ان کی تیمار داری کی حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئے اور ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں لپیٹ دیا۔ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے کہا: ”اے ابو سائب! تجھ پر اللہ کی رحمت ہو، میں تیرے حق میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے تجھے عزت بخشی ہے۔“ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تجھے کیا معلوم کہ اللہ نے اسے عزت بخشی ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”لیکن عثمان، تو اس کے پاس «الْيَقِينُ» ”موت“ آ چکی ہے اور میں اس کے لیے اللہ سے خیر کی امید رکھتا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔“ وہ فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! اس کے بعد میں نے کبھی کسی کو (قطعی طور پر) پاکیزہ نہیں کہا، اور اس بات نے مجھے غمگین کر دیا، پھر میں سو گئی تو مجھے خواب میں عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ایک چشمہ دکھایا گیا جو بہہ رہا تھا، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس کے اعمال (کا صلہ) ہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7190
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»