السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: سياق أخبار تدل على أن الميت يعذب بالنياحة عليه وما روي عن عائشة رضي الله عنها في ذلك. باب: ان احادیث کا بیان جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ میت کو اس پر نوحہ کیے جانے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے اور اس بارے میں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7173
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، لَمَّا مَاتَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ لَهُمْ: لَا تَبْكُوا عَلَيْهِ فَإِنَّ بُكَاءَ الْحِيِّ عَذَابٌ لِلْمَيِّتِ، وَقَالَ عَنْ عَمْرَةَ فَسَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُهُ اللهُ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَهُودِيَّةٍ، وَأَهْلُهَا يَبْكُونَ: " إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان سے کہا: تم نہ روؤ کیونکہ ”زندوں کے رونے کی وجہ سے میت کے لیے عذاب ہوتا ہے۔“ عمرہ رحمہا اللہ کہتی ہیں: میں نے سیدہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اللہ ان پر رحم کرے۔ بے شک رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودیہ اور اس کے اہل سے کہا جو رو رہے تھے کہ ”وہ اس پر رو رہے ہیں اور وہ قبر میں عذاب دی جا رہی ہے۔“