السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: سياق أخبار تدل على أن الميت يعذب بالنياحة عليه وما روي عن عائشة رضي الله عنها في ذلك. باب: ان احادیث کا بیان جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ میت کو اس پر نوحہ کیے جانے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے اور اس بارے میں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7172
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ذُكِرَ عِنْدَهَا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ فِي الْمُعَوَّلِ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؟ فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعَ شَيْئًا فَلَمْ ⦗١٢١⦘ يَحْفَظْهُ إِنَّمَا مُرَّ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ فَجَعَلَ أَهْلُهُ يَبْكُونَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَهُ وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ عَنْ حَمَّادٍ. زَادَ فِيهِ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ فَقَالَ: " إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ أَوْ بِذَنْبِهِ وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ الْآنَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ابن عمر رضی اللہ عنہما کی معمول والی بات بیان کی گئی تو انہوں نے کہا: ابو عبدالرحمٰن! ان پر اللہ رحم کرے کہ انہوں نے ایک بات سنی اور یاد نہ رکھ سکے، وہ ایسے تھا کہ ایک یہودی آدمی کا جنازہ گزرا اور اس کے اہل رو رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ رو رہے ہیں اور اسے عذاب کیا جا رہا ہے۔“