السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: سياق أخبار تدل على جواز البكاء بعد الموت. باب: ان احادیث کا بیان جو موت کے بعد رونے کے جواز پر دلالت کرتی ہیں
حدیث نمبر: 7157
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُنَيْنٍ يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ زَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ ثُمَّ قَالَ: " اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي وَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يَأْذَنْ لِي فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ ﷺ رو دیے اور جو لوگ آپ کے ارد گرد تھے آپ نے انہیں بھی رلا دیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اجازت طلب کی کہ میں ان کی قبر کی زیارت کروں تو مجھے اجازت دے دی گئی اور میں نے بخشش کی دعا کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ دی گئی۔ سو تم قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہیں۔“