السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من رخص في البكاء إلى أن يموت الذي يبكى عليه باب: اس شخص کا بیان جس نے جس پر رویا جا رہا ہے اس کی موت واقع ہونے تک رونے کی رخصت دی ہے
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَسَمِعَ نِسَاءَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ يَبْكِينَ عَلَى هَلْكَاهُنَّ فَقَالَ: " لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بَوَاكِيَ لَهُ " فَجِئْنَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ فَبَكَيْنَ عَلَى حَمْزَةَ عِنْدَهُ وَرَقَدَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُنَّ يَبْكِينَ فَقَالَ: " وَيْحَهُنَّ إِنَّهُنَّ لَهَاهُنَا حَتَّى الْآنَ مُرُوهُنَّ فَلْيَرْجِعْنَ وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ ". وَقَوْلُهُ: " وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ " إِنْ أَرَادَ بِهِ الْعُمُومَ كَانَ كَقَوْلِهِ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَتِيكٍ: " فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ " وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ عَلَى هَالِكٍ مِنْ شُهَدَاءِ أُحُدٍ فَكَأَنَّهُ قَالَ حَسْبُكُنَّ مَا بَكَيتُنَّ عَلَيْهِمْ، وَقَدْ وَرَدَتِ الرُّخْصَةُ فِي الْبُكَاءِ بَعْدَ الْمَوْتِ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَحُزْنِ الْقَلْبِ فَيَكُونُ حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ مَحْمُولًا عَلَى الِاخْتِيَارِ وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوہ احد سے جب رسول اللہ ﷺ لوٹے تو آپ ﷺ نے بنو عبدالاشہل کی عورتوں کو اپنے شہداء پر روتے ہوئے سنا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”حمزہ رضی اللہ عنہ پر تو کوئی رونے والا نہیں“، پھر انصاری عورتیں آئیں اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونا شروع کردیا۔ آپ ﷺ سو گئے، پھر بیدار ہوئے اور وہ ابھی رو رہی تھیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان پر افسوس ہے، یہ ابھی تک رو رہی ہیں، ان سے کہو کہ چلی جائیں اور آج کے بعد کسی شہید ہونے والے پر نہ روئیں۔“
«وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ» ”اور وہ آج کے بعد کسی مرنے والے پر نہ روئیں۔“ اگر اس سے عموم مراد ہے جیسے سیدنا عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جب وہ واجب ہوجائے تو کوئی رونے والی نہ روئے۔ اس سے یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد شہدائے احد ہوں جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم نے رو لیا وہ کافی ہے“ اور اس کے بعد فوت ہونے والے پر رونے کی رخصت دے دی گئی بغیر آنسوؤں کے اور غم گین دل سے۔