السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من رخص في البكاء إلى أن يموت الذي يبكى عليه باب: اس شخص کا بیان جس نے جس پر رویا جا رہا ہے اس کی موت واقع ہونے تک رونے کی رخصت دی ہے
حدیث نمبر: 7154
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُحُدٍ سَمِعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ، فَقَالَ: " لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بَوَاكِيَ لَهُ " فَبَلَغَ ذَلِكَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فَبَكَيْنَ لِحَمْزَةَ فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُنَّ يَبْكِينَ فَقَالَ: " يَا وَيْحَهُنَّ مَا زِلْنَ يَبْكِينَ مُنْذُ الْيَوْمِ فَلْيَسْكُتْنَ وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ ". وَقَدْ قِيلَ عَنْ أُسَامَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ احد سے پلٹے تو انصاری عورتوں کو روتے ہوئے سنا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے والیاں نہیں ہیں۔“ تو یہ بات انصار کی عورتوں تک پہنچی تو وہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے رونے لگیں۔ آپ ﷺ سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو وہ ابھی رو رہی تھیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر افسوس! ابھی تک رو رہی ہو؟ چاہیے کہ وہ خاموش ہوجائیں اور آج کے بعد کسی فوت ہونے والے پر نہ روئیں۔“