السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الرخصة في البكاء بلا ندب ولا نياحة باب: بین اور نوحہ کیے بغیر رونے کی رخصت کا بیان
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّخْلِ فَإِذَا ابْنُهُ إِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: أَتَبْكِي وَأَنْتَ تَنْهَى النَّاسَ؟ قَالَ: " إِنِّي لَمْ أَنْهَ عَنِ الْبُكَاءِ إِنَّمَا نَهَيْتُ عَنِ النَّوْحِ صَوْتَيْنِ أَحْمَقَيْنِ فَاجِرَيْنِ صَوْتٌ عِنْدَ نَغَمَةِ لَهْوٍ وَلَعِبٍ وَمَزَامِيرِ شَيْطَانٍ، وَصَوْتٌ عِنْدَ مُصِيبَةٍ خَمْشُ وُجُوهٍ وَشَقُّ جُيُوبٍ وَرَنَّةٌ وَهَذَا هُوَ رَحْمَةٌ وَمَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ، يَا إِبْرَاهِيمُ لَوْلَا أَنَّهُ أَمْرٌ حَقٌّ، وَوَعْدٌ صِدْقٌ وَأَنَّ آخِرَنَا سَيَلْحَقُ بِأَوَّلِنَا لَحَزِنَّا عَلَيْكَ حُزْنًا هُوَ أَشَدُّ مِنْ هَذَا، وَإِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ تَبْكِي الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ ".سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھجوروں کی طرف تشریف لے گئے، جبکہ آپ ﷺ کا بیٹا ابراہیم اپنی جان اللہ کے سپرد کر رہا تھا تو آپ ﷺ نے اسے اپنی گود میں رکھا اور آپ ﷺ کی آنکھیں بہنا شروع ہو گئیں تو سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ﷺ تو لوگوں کو منع کرتے ہیں اور خود رو رہے ہیں! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے رونے سے منع نہیں کیا بلکہ میں تو نوحہ کرنے سے منع کرتا ہوں اور احمقوں کی طرح آواز نکالنے سے جو فاجر لوگ آواز نکالتے ہیں، نغمے اور لہو ولعب کے ساتھ اور شیطان کی دھن کے ساتھ اور مصیبت کے وقت اس آواز سے جس کے ساتھ چہرہ چھیلنا بھی ہو، گریبان چاک کرنا بھی ہو اور یہ رونا تو رحم ہے اور جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ اے ابراہیم! اگر یہ حق نہ ہوتا اور سچا وعدہ نہ ہوتا اور یہ کہ ہر بعد میں آنے والا پہلوں سے ملنے والا نہ ہوتا تو ہم اس قدر غم کرتے جو اس سے کہیں زیادہ ہوتا جو ہم تیری جدائی سے غم زدہ ہیں، آنکھیں رو رہی ہیں اور دل غمگین ہے اور ہم وہ بات نہیں کریں گے جو ہمارے رب کو ناراض کرے۔“