❮
❯
حدیث نمبر: 7150
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ ⦗١١٥⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وُلِدَ لِيَ اللَّيْلَةَ غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِأَبِي إِبْرَاهِيمَ "، ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ امْرَأَةِ قَيْنٍ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ أَبُو سَيْفٍ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهُ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَانْتَهَيْنَا إِلَى أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِكِيرِهِ قَالَ: وَالْبَيْتُ مُمْتَلِئٌ دُخَانًا قَالَ فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ أَبَا سَيْفٍ فَقُلْتُ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ أَمْسِكْ، فَأَمْسَكَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِالصَّبِيِّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ وَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ قَالَ أَنَسٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا، وَاللهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هُدْبَةَ وَشَيْبَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: وَرَوَاهُ مُوسَى عَنْ سُلَيْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج رات میرے ہاں بچہ پیدا ہوا، میں نے اس کا نام اپنے باپ (کے نام) پر ابراہیم رکھا۔“ پھر اسے ام سیف کے سپرد کر دیا جو مدینہ کے ایک لوہار کی بیوی تھیں جسے ابو سیف کہا جاتا تھا، پھر آپ ﷺ اس کی زیارت کے لیے چلے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلا تو ہم ابو سیف کے پاس چلے گئے اور وہ بھٹی جلا رہا تھا اور اس کا گھر دھوئیں سے بھرا ہوا تھا، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے آگے تیز تیز چلنا شروع کر دیا اور میں ابو سیف کے پاس آیا اور کہا: رک جا، رک جا! رسول اللہ ﷺ آئے ہیں، تو وہ رک گیا، پھر آپ ﷺ آئے تو آپ نے بچے کو منگوایا اور اپنے ساتھ چمٹا لیا اور جو اللہ نے چاہا وہ فرمایا۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اسے آپ کے سامنے دیکھا اور وہ جان کنی کی حالت میں تھا تو رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”آنکھ بہتی ہے، دل غم گین ہوتا ہے اور ہم نہیں کہتے مگر وہ بات جو ہمارے رب کو خوش کرے۔ اللہ کی قسم! اے ابراہیم! ہم تیری وجہ سے نہایت غمزدہ ہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7150
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم»