السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يرجى في المصيبة بالأولاد إذا احتسبهم باب: اولاد کی مصیبت (وفات) پر ثواب کی نیت رکھنے والے کے لیے جس اجر کی امید کی جاتی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7147
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنَ أُمَّتِي أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَوَاحِدَةٌ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " وَوَاحِدَةٌ يَا مُوَفَّقَةُ "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْ أُمَّتِي فَرَطٌ فَأَنَا فَرَطُ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ لَمْ يُصَابُوا بِمِثْلِي "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ: ”جس کے دو بیٹے ہوں اور وہ فوت ہو گئے ہوں تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کریں گے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ایک بھی؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک بھی۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے جس کے لیے ایسا بچہ نہیں جو آگے گیا ہو تو میں اس کا پیش رو ہوں، اور جس کا بچہ (فوت) نہ ہوا ہو میں اس کا حوض پر پہلے پہنچنے والا ہوں اور وہ میرے جیسا نہیں پائیں گے۔“