السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الرغبة في أن يتعزى بما أمر الله تعالى به من الصبر والاسترجاع باب: اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صبر کرنے اور "إنا لله وإنا إليه راجعون" پڑھ کر تسلی حاصل کرنے کی ترغیب کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَاهُ شَيْخٌ، سَمِعَهُ مِنَ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، وَقَدْ دَخَلَ حَدِيثُ بَعْضِهِمْ فِي بَعْضٍ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ أَبُو أَنَسٍ لِامْرَأَتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ: أَرَى هَذَا الرَّجُلَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّمُ الْخَمْرَ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى الشَّامَ فَهَلَكَ هُنَالِكَ، فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ فَخَطَبَ أُمَّ سُلَيْمٍ فَكَلَّمَهَا فِي ذَلِكَ فَقَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا مِثْلُكَ يُرَدُّ وَلَكِنَّكَ امْرُؤٌ كَافِرٌ وَأَنَا امْرَأَةٌ مُسْلِمَةٌ لَا يَصْلُحُ أَنْ أَتَزَوَّجَكَ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ دَهْرُكِ، قَالَتْ وَمَا دَهْرِي؟ قَالَ الصَّفْرَاءُ وَالْبَيْضَاءُ، قَالَتْ: فَإِنِّي لَا أُرِيدُ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ أُرِيدُ مِنْكَ الْإِسْلَامَ، قَالَ: فَمَنْ لِي بِذَلِكَ؟ قَالَتْ: لَكَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَآهُ قَالَ: " جَاءَكُمْ أَبُو طَلْحَةَ غُرَّةُ الْإِسْلَامِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ". فَجَاءَ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَتَزَوَّجَهَا عَلَى ذَلِكَ، قَالَ ثَابِتٌ: فَمَا بَلَغَنَا أَنَّ مَهْرًا كَانَ أَعْظَمَ مِنْهُ أَنَّهَا رَضِيَتْ بِالْإِسْلَامِ مَهْرًا فَتَزَوَّجَهَا وَكَانَتِ امْرَأَةً مَلِيحَةَ الْعَيْنَيْنِ فِيهَا صِغَرٌ، فَكَانَتْ مَعَهُ حَتَّى وُلِدَ مِنْهُ بُنَيٌّ، وَكَانَ يُحِبُّهُ أَبُو طَلْحَةَ حُبًّا شَدِيدًا إِذْ مَرِضَ الصَّبِيُّ وَتَواضَعَ أَبُو طَلْحَةَ لِمَرَضِهِ أَوْ تَضَعْضَعَ لَهُ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَاتَ الصَّبِيُّ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لَا يَنْعَيَنَّ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ أَحَدٌ ابْنَهُ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَنْعَاهُ لَهُ، فَهَيَّأَتِ الصَّبِيَّ وَوَضَعَتْهُ، وَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وآله وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: كَيْفَ ابْنِي؟ فَقَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا كَانَ مُنْذُ اشْتَكَى أَسْكَنَ مِنْهُ السَّاعَةَ، قَالَ: فَلِلَّهِ الْحَمْدُ. فَأَتَتْهُ بِعَشَائِهِ فَأَصَابَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَتْ فَتَطَيَّبَتْ وَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَأَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا عَلِمَتْ أَنَّهُ طَعِمَ وَأَصَابَ مِنْهَا قَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا قَوْمًا عَارِيَةً لَهُمْ فَسَأَلُوهُمْ إِيَّاهَا أَكَانَ لَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهَا؟ فَقَالَ: لَا، قَالَتْ: فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ أَعَارَكَ ابْنَكَ عَارِيَةً ثُمَّ قَبَضَهُ إِلَيْهِ فَاحْتَسِبِ ابْنَكَ وَاصْبِرْ، فَغَضِبَ، ثُمَّ قَالَ تَرَكْتِنِي حَتَّى إِذَا وَقَعْتُ بِمَا وَقَعْتُ بِهِ نَعَيْتِ إِلَيَّ ابْنِي، ثُمَّ غَدَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَارَكَ اللهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا " فَتَلَقَّتْ مِنْ ذَلِكَ الْحَمْلِ وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَخْرُجُ مَعَهُ إِذَا خَرَجَ وَتَدْخُلُ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأْتُونِي بِالصَّبِيِّ "، فَأَخَذَهَا الطَّلْقُ لَيْلَةَ قُرْبِهِمْ مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَتْ: اللهُمَّ إِنِّي كُنْتُ أَدْخُلُ إِذَا دَخَلَ نَبِيُّكَ، وَأَخْرُجُ إِذَا خَرَجَ نَبِيُّكَ، وَقَدْ حَضَرَ هَذَا ⦗١١٠⦘ الْأَمْرُ فَوَلَدَتْ غُلَامًا يَعْنِي حِينَ قَدِمَا الْمَدِينَةَ فَقَالَتْ لِابْنِهَا أَنَسٍ انْطَلِقْ بِالصَّبِيِّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ أَنَسٌ الصَّبِيَّ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسِمُ إِبِلًا وَغَنَمًا فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ لِأَنَسٍ " أَوَلَدَتِ ابْنَةُ مِلْحَانَ؟ " قَالَ: نَعَمْ، فَأَلْقَى مَا فِي يَدِهِ فَتَنَاوَلَ الصَّبِيَّ فَقَالَ: " ائْتُونِي بِتَمَرَاتٍ عَجْوَةٍ " فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّمْرَ فَجَعَلَ يُحَنِّكُ الصَّبِيَّ وَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ: " انْظُرُوا إِلَى حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ ". فَحَنَّكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللهِ. قَالَ ثَابِتٌ: وَكَانَ يُعَدُّ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ، قِصَّةُ الْوَفَاةِ دُونَ مَا قَبْلَهَا مِنْ قِصَّةِ التَّزْوِيجِ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ أَنَسٍ مُخْتَصَرًا.نضر بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ کے والد مالک نے اپنی بیوی ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا تو نے اس شخص (نبی ﷺ) کو نہیں دیکھا کہ وہ شراب کو حرام کہتا ہے؟ پھر وہ شام چلا گیا اور وہیں ہلاک ہو گیا، تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ آئے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا اور اس سلسلے میں ان سے بات کی تو وہ کہنے لگیں: اے ابو طلحہ! آپ جیسا آدمی لوٹایا تو نہیں جاتا، مگر آپ کافر ہیں اور میں مسلمان عورت ہوں، اس لیے آپ سے میرا نکاح درست نہیں، تو انہوں نے پوچھا: تمہارا مہر کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میرا مہر؟ انہوں نے پوچھا: سونا یا چاندی؟ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: میں ایسا کچھ نہیں چاہتی، نہ سونا اور نہ ہی چاندی، میں تو آپ سے اسلام کا مطالبہ کرتی ہوں۔ انہوں نے پوچھا: میرے لیے اس کام میں کون ہے؟ انہوں نے کہا: آپ کے لیے اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ چنانچہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی ﷺ کی طرف چل پڑے جبکہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے، جب آپ ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”تمہارے پاس ابو طلحہ آیا ہے اور اسلام کی چمک اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان نظر آ رہی ہے“۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور جو کچھ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا تھا وہ بتا دیا اور آپ ﷺ نے اسی پر ان کا نکاح فرما دیا۔ ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں یہ بات نہیں پہنچی کہ اس سے زیادہ عظیم کوئی مہر ہو کہ وہ مہر کے عوض اسلام لانے پر خوش ہوئیں اور نکاح کیا، اور وہ خوبصورت آنکھوں والی عورت تھیں تو وہ ان کے ساتھ رہیں، یہاں تک کہ ان سے ایک بیٹا پیدا ہوا اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اس سے بہت محبت کرتے تھے۔ اچانک بچہ بیمار ہو گیا تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس کی دیکھ بھال کی، پھر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی طرف گئے اور بچہ فوت ہو گیا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی ابو طلحہ کو بچے کی موت کی خبر نہ دے، یہاں تک کہ میں خود انہیں آگاہ کروں گی، چنانچہ انہوں نے بچے کو تیار کیا اور رکھ دیا۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے آئے تو پوچھا: میرے بیٹے کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: اے ابو طلحہ! کل جو اسے تکلیف تھی، اس سے اب سکون میں ہے۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“۔ پھر وہ رات کا کھانا لائیں تو انہوں نے اس میں سے کھایا، پھر وہ اٹھیں، خوشبو وغیرہ لگائی اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا تو انہوں نے ان سے جماع کیا۔ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جان لیا کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کھانا کھا چکے ہیں اور ان سے لذت بھی حاصل کر لی ہے، تو کہا: اے ابو طلحہ! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر ایک قوم دوسری قوم کو عاریت کے طور پر کوئی چیز دے، پھر وہ ان سے واپس مانگ لیں، تو کیا انہیں زیب دیتا ہے کہ وہ اسے ان سے روکیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹا عاریت کے طور پر دیا تھا، پھر اسے اپنے پاس بلا لیا ہے، لہٰذا آپ اپنے بیٹے کی موت پر ثواب کی امید رکھیں اور صبر کریں۔ وہ غصے میں آ گئے اور کہا: تو نے مجھے خبر نہ دی، یہاں تک کہ جب میں نے وہ کام کر لیا تو اب تو نے مجھے میرے بیٹے کی موت کی خبر دی؟ پھر وہ صبح رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو خبر دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہاری گزشتہ رات میں برکت ڈالے“۔ چنانچہ وہ اس سے حاملہ ہو گئیں اور ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا کرتی تھیں۔ جب آپ ﷺ سفر سے واپس آتے تو وہ بھی واپس آتیں، یہاں تک کہ جب وہ مدینہ منورہ پہنچے تو ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا، انہوں نے اپنے بیٹے انس رضی اللہ عنہ سے کہا: اس بچے کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جاؤ، چنانچہ وہ بچے کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے جبکہ آپ ﷺ جانوروں کو نشان لگا رہے تھے۔ جب آپ ﷺ نے بچے کی طرف دیکھا تو فرمایا: ”کیا یہ بنتِ ملحان کا بیٹا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے وہ چیز چھوڑ دی جو ہاتھ میں تھی اور بچے کو پکڑ لیا اور فرمایا: ”میرے پاس عجوہ کھجوریں لاؤ“۔ پھر نبی کریم ﷺ نے کھجور لی اور اسے چبا کر بچے کو گھٹی دی اور بچہ اسے چوسنے لگا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”دیکھو، انصاریوں کو کھجور سے کس قدر محبت ہے“۔ پھر آپ ﷺ ہی نے گھٹی دی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔ ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان کا شمار بہترین مسلمانوں میں ہوتا ہے۔