❮
❯
حدیث نمبر: 7129
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، بِمَروٍ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنِي قُبِضَ فَأْتِنَا، فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ وَيَقُولُ: " إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ "، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ لَيَأْتِيَنَّهَا فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَرَجُلٌ فَدُفِعَ إِلَى رَسُولِ ⦗١٠٩⦘ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: كَأَنَّهَا شَنٌّ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا؟ قَالَ: " هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ عَاصِمٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی بیٹی نے آپ ﷺ کو پیغام بھیجا کہ میرا بیٹا فوت ہو گیا، آپ ہمارے پاس تشریف لائیں۔ آپ ﷺ نے پیغام بھیجا کہ ”وہ تمہیں سلام کہتے ہیں اور یہ کہ وہ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا اور اسی کے لیے جو اس نے عطا کیا اور ہر چیز اس کے پاس وقت مقررہ کے ساتھ ہے، سو چاہیے کہ تم صبر کرو اور اجر کی امید رکھو۔“ پھر انہوں نے آپ ﷺ کی طرف قسم دے کر پیغام بھیجا کہ آپ ضرور ان کے پاس تشریف لائیں، تو آپ ﷺ اٹھے اور آپ کے ساتھ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور ایک آدمی تھا۔ بچہ رسول اللہ ﷺ کو پکڑایا گیا اور اس کا سانس اکھڑ رہا تھا، میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: گویا وہ پرانا مشکیزہ ہو، تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ رحمت ہے جسے اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھا ہے، اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم کرنے والوں ہی پر رحم کرتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7129
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري»