حدیث نمبر: 7122
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَعَلَتْ أُخْتُهُ تَبْكِي عَلَيْهِ وَتَقُولُ: وَاجَبَلَاهُ، وَتُعَدِّدُ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: " مَا قُلْتِ لِي شَيْئًا إِلَّا وَقَدْ قِيلَ لِي: أَنْتَ كَذَلِكَ؟ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ. وَرَوَاهُ عَبْثَرٌ عَنْ حُصَيْنٍ وَزَادَ فِيهِ فَلَمَّا مَاتَ لَمْ تَبْكِ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہوئی تو ان کی بہن نے رونا شروع کر دیا اور وہ کہہ رہی تھیں: ہائے میرے پہاڑ (جیسے)! اور وہ ایسی باتیں گن رہی تھیں، جب وہ ہوش میں آئے تو انہوں نے کہا: تم نے میرے بارے میں جو بھی بات کہی (اس پر) مجھ سے کہا گیا: کیا تم واقعی ایسے ہی ہو؟
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں عمران بن میسرہ رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے، وہ ابن فضیل رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں اور عبثر رحمہ اللہ نے حصین رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے اور یہ اضافہ کیا ہے کہ جب وہ فوت ہوئے تو وہ (ان کی بہن) ان پر نہیں روئیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7122
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري»