السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
جماع أبواب البكاء على الميت باب: میت پر رونے کے ابواب کا مجموعہ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، ⦗١٠٤⦘ أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ. قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُلْتُ: غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ لَأَبْكِيَنَّ عَلَيْهِ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ بِهِ، قَالَتْ: فَلَمَّا تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ إِذَا امْرَأَةٌ تُرِيدُ أَنْ تَأْتِيَنِي فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا قَدْ أَخْرَجَهُ اللهُ مِنْهُ ". قَالَتْ: فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ: لَأَبْكِيَنَّ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ إِذْ أَتَتِ امْرَأَةٌ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي مِنَ الصَّعِيدِ فَاسْتَقْبَلَهَا فَذَكَرَهُ. قَالَتْ: فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ فَلَمْ أبْكِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ. وَهَذَا فِي بُكَاءٍ يَكُونُ مَعَهُ نَدْبٌ أَوْ نِيَاحَةٌ وَهَكَذَا مَا رُوِّينَا فِيمَا مَضَى عَنْ عَائِشَةَ مَنْ بُكَاءِ نِسَاءِ جَعْفَرٍ عَلَيْهِ وَنَهْيُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ.سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے کہا: وہ غریب الوطن ہے، میں ضرور اس پر اتنا روؤں گی کہ لوگ اسے بیان کریں گے۔ سو جب میں نے ان پر رونے کی تیاری کر لی تو ایک عورت آئی جو میرے ساتھ شامل ہونا چاہتی تھی تو نبی کریم ﷺ اس کے سامنے آئے اور فرمایا: ”کیا تو چاہتی ہے کہ اپنے گھر میں شیطان داخل کرے جب کہ اللہ نے اسے نکال دیا ہے؟“ وہ فرماتی ہیں: میں رونے سے باز آگئی اور ابو عبداللہ کی روایت میں ہے کہ میں اس پر ایسا روؤں گی کہ لوگ اس کی باتیں کریں گے، ہم اسی حالت میں رونے کی تیاری کر رہے تھے جب کہ ایک عورت آئی جو ہم میں شامل ہونا چاہتی تھی تو نبی کریم ﷺ اس کے سامنے آئے اور اس بات کا تذکرہ کیا۔ فرماتی ہیں: پھر میں رونے سے باز آگئی۔
اسے مسلم نے اپنی صحیح میں اسحاق بن ابراہیم سے بیان کیا کہ یہ رونے کا حکم ہے جس میں نوحہ شامل ہو۔ ایسے ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے جعفر رضی اللہ عنہ کی عورتوں کے رونے کے بارے میں اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا ہے۔