السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستحب لولي الميت من التعجيل بتنفيذ وصاياه بالصدقة وغيرها باب: میت کے ولی کے لیے صدقہ وغیرہ کی صورت میں میت کی وصیتوں کو نافذ کرنے میں جلدی کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7102
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ أَبِي شَمْلَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَصْغَرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكْثَرَهُمْ مِنْهُ سَمَاعًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبْقَى لِلْوَلَدِ مِنْ بِرِّ الْوَالِدِ إِلَّا أَرْبَعٌ الصَّلَاةُ عَلَيْهِ، وَالدُّعَاءُ لَهُ، وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِ مِنْ بَعْدِهِ، وَصِلَةُ رَحِمِهِ، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں چھوٹا تھا اور ان سے زیادہ آپ ﷺ کی باتیں سننے والا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بچے کے لیے اس کے والد کی بھلائیاں نہیں باقی رہتیں سوائے چار بھلائیوں کے: ۱۔ اس کا جنازہ پڑھنا۔ ۲۔ اس کے لیے دعا کرنا۔ ۳۔ اس کے بعد اس کی وصیت جاری کرنا اور صلہ رحمی کرنا۔ ۴۔ اس کے دوستوں کی عزت و تکریم کرنا۔“