السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستحب لولي الميت من التعجيل بتنفيذ وصاياه بالصدقة وغيرها باب: میت کے ولی کے لیے صدقہ وغیرہ کی صورت میں میت کی وصیتوں کو نافذ کرنے میں جلدی کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7101
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي، وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ ". ⦗١٠٢⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
مطرف بن عبداللہ بن شخیر اپنے والد سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾ [سورة التكاثر: 1] نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا ہے: میرا مال! میرا مال! اور کیا تیرے مال میں سے تیرے لیے اس کے سوا بھی ہے جو تو نے کھا لیا اور ہضم کر لیا اور جو پہن کر بوسیدہ کر لیا یا پھر صدقہ کر کے ذخیرہ بنا لیا؟“