السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من لم ير به بأسا وإن كان الاختيار فيما مضى باب: اس شخص کا بیان جس نے اس (میت کو منتقل کرنے) میں کوئی حرج نہیں سمجھا، اگرچہ پسندیدہ بات وہی ہے جو گزر چکی
حدیث نمبر: 7073
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَتْنِي ⦗٩٥⦘ أُمِّي، قَالَتْ: " مَاتَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْعَقِيقِ "، قَالَ دَاوُدُ: وَهُوَ عَلَى نَحْوٍ مِنْ عَشَرَةِ أَمْيَالٍ، قَالَتْ: " فَرَأَيْتُهُ حُمِلَ عَلَى أَعْنَاقِ الرِّجَالِ حَتَّى أُتِيَ بِهِ فَأُدْخِلَ بِهِ الْمَسْجِدَ مِنْ نَحْوِ بَابِ دَارِ مَرْوَانَ، فَوُضِعَ عِنْدَ بُيُوتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِنَاءِ الْحُجَرِ فَصَلَّى الْإِمَامُ عَلَيْهِ وَصَلَّيْنَ عَلَيْهِ بِصَلَاةِ الْإِمَامِ ".حافظ ثناء اللہ
داؤد بن قیس فرماتے ہیں: مجھے میری ماں نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عقیق میں فوت ہوئے۔ داؤد فرماتے ہیں: وہ تقریباً دس میل کا فاصلہ ہے، میں نے دیکھا کہ انہیں لوگوں کی گردنوں پر اٹھایا گیا، یہاں تک کہ انہیں دارِ مروان کے دروازے سے مسجد میں داخل کیا گیا اور انہیں نبی کریم ﷺ کے گھروں کے سامنے صحن میں رکھا گیا تو امام نے جنازہ پڑھا اور انہوں نے بھی امام کی طرح جنازہ پڑھا۔