السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يقال بعد الدفن باب: دفن کے بعد پڑھے جانے والے کلمات کا بیان
حدیث نمبر: 7067
وَرُوِّينَا عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِهِ عَبْدِ اللهِ: " فَإِذَا مِتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلَا نَارٌ فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَسُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ سَنًّا، فَإِذَا فَرَغْتُمْ مِنْ قَبْرِي فَامْكُثُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقَسَّمُ لَحْمُهَا؛ فَإِنِّي أَسْتَأْنِسُ بِكُمْ حَتَّى أَعْلَمَ مَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنبأ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ: حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ فَذَكَرَهُ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہا: جب میں فوت ہو جاؤں تو میرے ساتھ نوحہ کرنے والی نہ لے کر آنا اور نہ ہی آگ لانا، جب مجھے دفن کر دو تو مجھ پر مٹی ڈالو۔ جب تم میری قبر سے فارغ ہو جاؤ تو میری قبر کے ارد گرد اتنی دیر کھڑے رہنا جس قدر اونٹ ذبح کر کے تقسیم کیا جاتا ہے، میں تم سے انس محسوس کروں گا جب تک میں جان نہ لوں کہ میرے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے واپس جا چکے ہیں۔