السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يقال إذا أدخل الميت قبره باب: جب میت کو اس کی قبر میں اتارا جائے تو جو کلمات کہے جائیں گے ان کا بیان
حدیث نمبر: 7060
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ قَالَ: وَأنبأ أَحْمَدُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرٌو، ثنا شُعْبَةُ، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الدِّيقِ، قَالَ شُعْبَةُ فِي حَدِيثِهِ: شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ وَوَضَعَ مَيِّتًا فِي قَبْرِهِ فَقَالَ: " بِسْمِ اللهِ وَعَلى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا بِزِيَادَةِ أَلْفَاظٍ إِلَّا أَنَّهُ ضَعِيفٌ.حافظ ثناء اللہ
شعبہ کی حدیث میں ہے کہ (ابو الصدیق نے) کہا: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا، انہوں نے میت کو قبر میں رکھا تو کہا: «بِسْمِ اللهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کی ملت پر۔“
یہ روایت ایک اور سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً کچھ زائد الفاظ کے ساتھ بھی مروی ہے، لیکن وہ ضعیف ہے۔