السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الميت يدخله قبره الرجال ومن يكون منهم أفقه وأقرب بالميت رحما باب: میت کو قبر میں مرد حضرات اتاریں گے اور ان میں سے جو زیادہ فقیہ اور میت کا زیادہ قریبی رشتہ دار ہو (وہ زیادہ حق دار ہے)
حدیث نمبر: 7043
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " غَسَّلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ مَا يَكُونُ مِنَ الْمَيِّتِ فَلَمْ أَرَ شَيْئًا وَكَانَ طَيِّبًا حَيًّا وَمَيِّتًا، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَوَلِيَ دَفْنَهَ وَأَجْنَانَهُ دُونَ النَّاسِ أَرْبَعَةٌ عَلِيٌّ، وَالْعَبَّاسُ، وَالْفَضْلُ، وَصَالِحٌ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَلُحِدَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْدًا وَنُصِبَ عَلَيْهِ اللَّبَنُ نَصْبًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو غسل دیا، میں نے آپ ﷺ میں وہ چیز دیکھنی چاہی جو میت میں دیکھی جاتی ہے تو مجھے کوئی چیز نظر نہ آئی، میں نے آپ ﷺ کو زندہ اور فوت ہوتے ہوئے پاک حالت میں دیکھا اور آپ ﷺ کی تدفین چار آدمیوں کے سپرد ہوئی: سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عباس، سیدنا فضل رضی اللہ عنہما اور رسول اللہ ﷺ کے غلام صالح رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ ﷺ کے لیے لحد بنائی گئی اور اس پر کچی اینٹیں نصب کی گئیں۔