السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الميت يدخله قبره الرجال ومن يكون منهم أفقه وأقرب بالميت رحما باب: میت کو قبر میں مرد حضرات اتاریں گے اور ان میں سے جو زیادہ فقیہ اور میت کا زیادہ قریبی رشتہ دار ہو (وہ زیادہ حق دار ہے)
حدیث نمبر: 7041
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: غَسَّلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ، وَالْفَضْلُ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَهُمْ أَدْخَلُوهُ قَبْرَهَ. قَالَ وَحَدَّثَنِي مَرْحَبٌ أَوِ ابْنُ أَبِي مَرْحَبٍ أَنَّهُمْ أَدْخَلُوا مَعَهُمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمَّا فَرَغَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِنَّمَا يَلِي الرَّجُلَ أَهْلُهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو سیدنا علی، سیدنا فضل اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے غسل دیا اور انہوں نے ہی آپ کو قبر میں داخل کیا، سدی کہتا ہے: مجھے مرحب یا ابن ابی نے حدیث بیان کی کہ ان کے ساتھ آپ کو قبر میں اتارتے وقت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی تھے، جب آپ کو دفن کر کے فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: آدمی کے قریب اس کا اہل ہوتا ہے۔