السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الصلاة على الميت الغائب بالنية باب: غائب میت پر نیت کر کے نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ هِلَالٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ يَعْنِي عَطَاءً، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: نَزَلَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَاتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيُّ، أَفَتُحِبُّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ، فَضَرَبَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِجَنَاحِهِ، فَلَمْ تَبْقَ شَجَرَةٌ، وَلَا أَكَمَةٌ إِلَّا تَضَعْضَعَتْ، وَرَفَعَ لَهُ سَرِيرَهَ حَتَّى نَظَرَ إِلَيْهِ وَصَلَّى عَلَيْهِ، وَخَلْفَهُ صَفَّانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ كُلُّ صَفٍّ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: " يَا جَبْرَائِيلُ بِمَا نَالَ هَذِهِ الْمَنْزِلَةَ "، فَقَالَ: بِحُبِّهِ {قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: ١] وَقِرَاءَتِهِ إِيَّاهَا جَائِيًا وَذَاهَبًا وَقَائِمًا وَقَاعِدًا " أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، قَالَ مَحْبُوبُ بْنُ هِلَالٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسٍ: نَزَلَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ. لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ. سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَذْكُرُهُ عَنِ الْبُخَارِيِّ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا: ”اے محمد ﷺ! معاویہ بن معاویہ مزنی فوت ہو گئے ہیں۔ کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ ان کا جنازہ پڑھیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“، جبرائیل علیہ السلام نے پر مارا جس سے کوئی درخت یا ٹیلہ درمیان میں نہ رہا سب ہٹ گئے اور ان کی چارپائی کو اٹھایا گیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اسے دیکھا اور ان کا جنازہ پڑھا، آپ کے پیچھے دو صفیں فرشتوں کی تھیں اور ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے تو نبی کریم ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا: ”اے جبرائیل! اسے یہ مقام کیسے حاصل ہوا؟“ تو انہوں نے کہا: ”یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] سے محبت کرتا تھا اور وہ ہمیشہ آتے جاتے، بیٹھے اور کھڑے اسی کی تلاوت کرتا تھا۔“