السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الصلاة على الميت الغائب بالنية باب: غائب میت پر نیت کر کے نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْعَلَاءُ أَبُو مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ فَطَلَعَتِ الشَّمْسُ بِضِيَاءٍ وَنُورٍ وَشُعَاعٍ لَمْ أَرَهَا طَلَعَتْ فِيمَا مَضَى، فَأَتَى جَبْرَائِيلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا جَبْرَائِيلُ مَا لِي أَرَى الشَّمْسَ طَلَعَتْ بِضِيَاءٍ وَنُورٍ وَشُعَاعٍ لَمْ أَرَهَا طَلَعَتْ فِيمَا مَضَى "، فَقَالَ: ذَاكَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيَّ مَاتَ بِالْمَدِينَةِ الْيَوْمَ، فَبَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ، قَالَ: " وَفِيمَ ذَلِكَ "، قَالَ: كَانَ يُكْثِرُ قِرَاءَةَ {قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: ١] بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَفِي مَمْشَاهُ، وَقِيَامِهِ، وَقُعُودِهِ، فَهَلْ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ أَقْبِضَ لَكَ الْأَرْضَ، فَتُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟، قَالَ: " نَعَمْ "، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ رَجَعَ "، الْعَلَاءُ هَذَا هُوَ ابْنُ زَيْدٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ زَيْدَلٍ لَا يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِمَنَاكِيرَ. أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا الْجُنَيْدِيُّ، ثنا الْبُخَارِيُّ قَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زَيْدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَنَسٍ رَوَى عَنْهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ⦗٨٤⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تبوک میں تھے اور سورج اپنی روشنی اور چمک دمک کے ساتھ طلوع ہوا۔ اس نے پہلے اس طرح طلوع کو نہیں دیکھا تھا۔ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے جبرائیل! کیا بات ہے میں نے آج دیکھا ہے کہ سورج کل سے زیادہ چمک دمک کے ساتھ طلوع ہوا ہے؟“ تو جبرائیل امین نے کہا: اس وجہ سے کہ معاویہ بن معاویہ لیثی مدینے میں فوت ہوا ہے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس کی طرف ستر ہزار فرشتے بھیجے ہیں جو اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کس بات میں؟“ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: وہ رات اور دن میں اپنے چلنے، بیٹھنے اور کھڑے ہونے میں اکثر ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] (اخلاص) پڑھا کرتے تھے، اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے زمین قریب کروں تاکہ آپ ﷺ اس کا جنازہ پڑھیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“، پھر آپ ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھا اور واپس پلٹ آئے۔