السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الصلاة على القبر بعدما يدفن الميت باب: میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 7024
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: " مَاتَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ بِالصِّفَاحِ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا فَحَمَلْنَاهُ عَلَى عَوَاتِقِ الرِّجَالِ حَتَّى دَفَنَّاهُ بِمَكَّةَ، فَقَدِمَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ، فَقَالَتْ: أَيْنَ قَبْرُ أَخِي؟ فَأَتَتْهُ فَصَلَّتْ عَلَيْهِ " زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ بَعْدَ وَفَاتِهِ بِشَهْرٍ.حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما صفاح میں یا اس کے قریب فوت ہو گئے، ہم نے انہیں لوگوں کے کندھوں پر اٹھایا، یہاں تک کہ ہم نے انہیں مکہ میں دفن کر دیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس وفات کے بعد آئیں تو انہوں نے کہا: میرے بھائی کی قبر کہاں ہے؟ پھر وہ وہاں آئیں اور ان کے لیے دعا کی۔ کچھ نے وہ مدت ایک مہینہ بیان کی ہے۔