السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الصلاة على القبر بعدما يدفن الميت باب: میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ مَعْبَدِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ مَعْرُورٍ، كَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَكَانَ أَحَدَ السَّبْعِينَ النُّقَبَاءِ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ قَبْلَ أَنْ ⦗٨١⦘ يُهَاجِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُصَلِّي نَحْوَ الْقِبْلَةِ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، أَوْصَى بِثُلُثِ مَالِهِ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُهُ حَيْثُ شَاءَ، وَقَالَ: وَجِّهُونِي فِي قَبْرِي نَحْوَ الْقِبْلَةِ، فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ سَنَةٍ، فَصَلَّى عَلَيْهِ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَرَدَّ ثُلُثَ مِيرَاثِهِ عَلَى وَلَدِهِ، هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي، وَالصَّوَابُ بَعْدَ شَهْرٍ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَهَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ رُوِّينَاهُ فِي هَذَا الْكِتَابِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ مَوْصُولًا دُونَ التَّأْقِيتِ.ابو محمد بن معبد بن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ براء بن معرور رضی اللہ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے قبلے کی طرف منہ کیا اور وہ ستر نقیبوں میں سے تھے اور وہ آپ ﷺ کی ہجرت سے پہلے مدینہ آئے، انہوں نے قبلے کی طرف منہ کر کے نماز شروع کر دی۔ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے اپنے تہائی مال کی وصیت کی کہ وہ اسے جہاں چاہیں خرچ فرمائیں۔ انہوں نے فرمایا: جب میں فوت ہو جاؤں تو قبر میں میرا چہرہ قبلے کی طرف کرنا، آپ ﷺ ایک سال کے بعد تشریف لائے تو آپ ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کا جنازہ پڑھا اور اس کا تہائی مال اس کی اولاد کو دے دیا۔
میں نے اپنی کتاب میں ایسے ہی پایا ہے، درست بات یہ ہے کہ یہ واقعہ مہینے کے بعد ہوا۔