السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: كيف الأخذ من الشارب باب: مونچھیں تراشنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 699
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأُوَيْسِيُّ، قَالَ: ذَكَرَ مَالِكُ بْنُ أَنَسَ ⦗٢٣٥⦘ إِحْفَاءَ بَعْضِ النَّاسِ شَوَارِبَهُمْ، فَقَالَ مَالِكٌ: " يَنْبَغِي أَنْ يُضْرَبَ مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ فَلَيْسَ حَدِيثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِحْفَاءِ، وَلَكِنْ يُبْدِي حَرْفَ الشَّفَتَيْنِ وَالْفَمَ "، قَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: " حَلْقُ الشَّارِبِ بِدْعَةٌ ظَهَرَتْ فِي النَّاسِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا مالک بن انس رحمہ اللہ نے بعض لوگوں کا مونچھیں جڑ سے صاف کرنے کا ذکر کیا، امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایسا شخص سرزنش کے لائق ہے جس نے ایسا کام کیا، کیونکہ نبی ﷺ سے مونچھیں جڑ سے اکھاڑنے کی کوئی حدیث نہیں ہے اور وہ دونوں ہونٹوں اور منہ کی طرف شروع کرے۔ مالک بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں: مونچھوں کو جڑ سے مونڈنا بدعت ہے جو لوگوں میں ظاہر ہوچکی ہے۔