السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الدعاء في صلاة الجنازة باب: نماز جنازہ میں دعا کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَضَرْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ صَلَّى بِنَا عَلَى جِنَازَةٍ بِالْأَبْوَاءِ فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ رَافِعًا صَوْتَهُ بِهَا، ثُمَّ صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَيَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَصْبَحَ فَقِيرًا إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَصْبَحْتَ غَنِيًّا عَنْ عَذَابِهِ تَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا وَأَهْلِهَا إِنْ كَانَ زَاكِيًا فَزَكِّهِ، وَإِنْ كَانَ مُخْطِئًا فَاغْفِرْ لَهُ، ⦗٧٠⦘ اللهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ "، ثُمَّ كَبَّرَ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَمْ أَقْرَأْ عَلَيْهَا إِلَّا لِتَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ " قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ الْجِنَازَةِ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَغَيْرِهِمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَلَيْسَ فِي الدُّعَاءِ شَيْءٌ مُوَقَّتٌ، وَفِي بَعْضِ مَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.شرجیل بن سعد فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ مقامِ ابواء میں نمازِ جنازہ ادا کی۔ انہوں نے تکبیر کہی، پھر انہوں نے بلند آواز سے ام القرآن (سورۃ فاتحہ) پڑھی اور نبی کریم ﷺ پر درود شریف پڑھا، پھر یہ دعا پڑھی: «اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَيَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، أَصْبَحَ فَقِيرًا إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَصْبَحْتَ غَنِيًّا عَنْ عَذَابِهِ، تَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا وَأَهْلِهَا، إِنْ كَانَ زَاكِيًا فَزَكِّهِ، وَإِنْ كَانَ مُخْطِئًا فَاغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ، تیرے بندے کا بیٹا اور تیری بندی کا بیٹا ہے، یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ گواہی دیتا ہے کہ محمد تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ یہ تیری رحمت کا محتاج ہو گیا ہے اور تو اسے عذاب دینے سے بے نیاز ہے، یہ دنیا اور اہلِ دنیا سے الگ ہو گیا ہے، اگر یہ پاکیزہ تھا تو اسے پاکیزہ فرما اور اگر یہ خطا کار تھا تو اسے بخش دے، اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر۔“ پھر تین تکبیرات کہیں، پھر سلام پھیر دیا، پھر فرمایا: اے لوگو! میں نے اسے آپ کے سامنے اس لیے پڑھا ہے تاکہ آپ جان لو کہ یہ سنت ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: نمازِ جنازہ میں دعا کے سلسلے میں بہت سی احادیث نبی کریم ﷺ سے منقول ہیں، پھر عمر، علی، ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے نقل کی ہیں۔ اور دعا میں کوئی چیز مقرر نہیں ہے، مگر جو ہم نے بعض بیان کی ہیں وہ کافی ہیں۔